قاری حماد اللہ ساجد کی طرف سے خوش آمدید

اگر آپ تجوید و قراءت کے قواعد و ضوابط ، قرآن کریم کی ساتوں قراءات اور مقامات قرآنیہ سیکھنے کا ذوق رکھتے ہیں تو آپ درست جگہ آئےہیں۔

(Tajveed Rules)
قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے ۔

“تجوید “قرآن کی تلاوت میں ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے الفاظ کی ادائیگی کو درست اور واضح کیا جاتا ہے۔ اس میں قرآن کے کلموں کو درست تلفظ، آواز اور آواز کی صحیح بلندیوں کے ساتھ پڑھنا شامل ہے۔ تجوید کی مدد سے قرآن کی تلاوت کے دوران ہر حرف کو اس کے مناسب مقام پر ادا کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی لفظ یا آیت کا مفہوم یا معنی تبدیل نہ ہو۔ مزید تفصیل

( Seven Qira'at)
سات قراءات

 بہت سی صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم ’’سات حروف‘‘ پر اتارا گیا ہے، اس سے مراد وہ قراءتیں ہیں جو تواتر کے ساتھ منقول چلی آرہی ہیں.

 متواتر قرائتوں کی قبولیت کے لیے یہ شرط ہے کہ عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ یہی’’ قراءات سبعہ

متواترہ‘‘ کہلاتی ہیں مزید تفصیل

قراءات سبعہ جن قراء کرام کے ناموں سے معروف و مشہور ہیں ان کے نام  درج ذیل ہیں۔

حمزہ زیات الکوفی

راوی: خلف اور خلاد۔ مثال : قراءت (حفص): فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا
حمزہ: فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا (تلفظ میں معمولی اختلاف)

عاصم الکوفی

راوی: حفص ،ابوبکر شعبہ۔مثال : الفاتحہ (آیت 4)۔
قراءت (حفص): مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
نافع : مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ابن کثیر المکی

راوی: البزی اور قنبل۔ مثال:قراءت (حفص): إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ
ابن کثیر: إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ
(تلفظ میں معمولی اختلاف)

امام نافع المدنی

راوی: ورش اور قالون۔ مثال : سورہ الفاتحہ (آیت 4)۔ قراءت (حفص): مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
نافع : مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ

عبداللہ بن عامر الشامی

راوی: ہشام ، ابن ذکوان مثال:قراءت (حفص): وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ ابن عامر: وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ (تلفظ میں معمولی اختلاف)

ابو عمرو بن علاء البصری

راوی: دوری اور السوسی مثال : قراءت (حفص): حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ ابو عمرو: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ (تلفظ میں معمولی اختلاف)

الکسائ الکوفی

راوی: دوری ،ابوالحارث مثال :قراءت (حفص): وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ الکسائی: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ
(تلفظ میں معمولی اختلاف)

(Seven Maqamat)
قرآن کریم کی تلاوت کے سات لہجےاور انداز جنہیں سات مقامات کہا جاتا ہے

مقامات سے مراد قرآن کریم کو پڑھنے کے مختلف سوز و گداز کے انداز ہیں۔ یہ انداز موسیقی کے اصولوں پر مبنی ہیں اور تلاوت کو خوبصورت بناتے ہیں۔

ان ساتوں لہجوں کے نام یاد رکھنے کے لیے اکابر قراء اساتذہ کرام نے “صُنِعَ بِسِحْرِکَ ” کا لفظ تجویز فرمایا ہے۔ اس ایک جملے میں ہر لہجے و انداز کے نام کا پہلا حرف سمو دیا گیا ہے ۔ مزید تفصیل

یہ مقامات درج ذیل ہیں

مقام بیات

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو نرم اور سادہ انداز تلاوت کے لیے استعمال ہوتا ہے

مقام عجم

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو خوشی اور جشن کے جذبات کو ظاہر کرتا ہے

مقام نہاوند

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو نرم اور دلکش انداز تلاوت کے لیے استعمال ہوتا ہے

مقام صبا

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو غم اور رقت کے جذبات کو ظاہر کرتا ہے

مقام رست

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو وقار اور سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے

مقام حجاز

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو سفر یا غربت کے جذبات کو ظاہر کرتا ہے

مقام سيكاه

تلاوت قرآن کریم کا وہ لہجہ جو جوش اور ولولہ کو ظاہر کرتا ہے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit, sed do eiusmod tempor incididunt ut labore et dolore magna aliqua. Ut enim ad minim veniam, quis nostrud exercitation ullamco laboris nisi ut aliquip ex ea commodo consequat.

Duis aute irure dolor in reprehenderit in voluptate velit esse cillum dolore eu fugiat nulla pariatur. Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui officia deserunt mollit anim id est laborum.

Duis aute irure dolor in reprehenderit in voluptate velit esse cillum dolore eu fugiat nulla. Excepteur pariatur sint occaecat cupidatat.

Recent Programs

Duis aute irure dolor in reprehenderit in voluptate velit esse cillum dolore eu fugiat nulla. Excepteur pariatur sint occaecat cupidatat.

Duis aute irure dolor in reprehenderit in voluptate velit esse cillum dolore eu fugiat nulla. Excepteur pariatur sint occaecat cupidatat.

Translate »
Scroll to Top